نئی دہلی،15؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی)ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مہووا موئترا نے ہفتے کے روز قومی دارالحکومت میں ان کے گھر پر تین مسلح سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی نگرانی کیلئے تو نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ نے دہلی پولیس چیف کو ایک خط لکھ کر ان سیکیورٹی اہلکاروں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے پر دہلی پولیس نے کہا کہ یہ باقاعدہ تعیناتی تھی اور موصولہ درخواست کی بنیاد پر مسلح اہلکاروں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔دہلی پولیس کمشنر ایس این سریواستو کو لکھے گئے خط میں رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ باراکھمبا پولیس اسٹیشن کا انچارج ان سے 12 فروری کو اپنی رہائش گاہ پر ملنے آیا تھا اور اس کے فورا بعد ہی بارڈر سکیورٹی فورس کے تین اہلکاروں کو مسلح رائفل کے ساتھ ان کے گھرکے باہر رکھ دیاتھا۔انہوں نے کہاکہ ان کی نظر میرے گھر آنے اور یہاں آنے والوں کی سرگرمیوں پر ہے اور مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری جاسوسی کی جارہی ہے۔رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ آپ کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ رازداری کا حق بنیادی حق ہے اور اس ملک کا شہری ہونے کے سبب، آئین ہند مجھے اس کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تفتیش پر مجھے معلوم ہوا کہ ان مسلح افسران کو میری حفاظت کے لئے باراکھمبا روڈ پولیس اسٹیشن نے تعینات کیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ تاہم اس ملک کے ایک عام شہری کی حیثیت سے میں نے نہ تو اس طرح کے تحفظ کی مانگ کی ہے اور نہ ہی میں چاہتی ہوں۔ اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ ان سیکیورٹی افسران کو واپس بلایا جائے۔ اس سلسلے میں ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ جہاں جہاں خطرہ ہونے کا خدشہ ہے وہاں سیکیورٹی کے لئے فورس تعینات ہے۔ اہلکار نے کہاکہ لیکن یہ باقاعدہ تعیناتی تھی، تاہم جیسا کہ درخواست کی گئی ہے، ہم نے اپنی فورس واپس لے لی ہے۔